نئی دہلی،30؍مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ معاملے میں سوامی اسیمانند اور3 دیگر ملزمین کو بری کرنے والی پنچکولہ کی اسپیشل کورٹ نے کہا کہ قابل اعتماد اور قابل قبول ثبوتوں کی کمی کی وجہ سے اس گھناؤنے جرم کے کسی گناہ گار کو سزا نہیں مل پائی۔اس معاملے میں چاروں ملزمین سوامی اسیمانند، لوکیش شرما، کمل چوہان اور راجیندر چودھری کو عدالت نے گزشتہ 20 مارچ کو بری کر دیا تھا۔
این آئی اے کورٹ کے جج جگدیپ سنگھ نے اپنے فیصلے میں کہا، ‘ مجھے شدید رنج اور تکلیف کے ساتھ فیصلے کو ختم کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ قابل اعتماد اور قابل قبول ثبوتوں کی کمی کی وجہ سے اس گھناؤنے جرم میں کسی کو گناہ گار نہیں ٹھہرایا جا سکا۔ استغاثہ کے ثبوتوں میں تسلسل کی کمی تھی اور دہشت گردی کا معاملہ سلجھے بغیر رہ گیا ۔جج جگدیپ سنگھ نے 160 صفحے کے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ استغاثہ نے سب سے مضبوط ثبوت عدالت میں پیش نہیں کئے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد گواہوں کی کبھی تفتیش نہیں کی گئی۔انہوں نے 28 مارچ کو عام کئے گئے تفصیلی فیصلے میں کہاکہ عدالت کا فیصلہ عام نظریہ یا سیاست سے متاثر نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس کو موجودہ ثبوتوں پر توجہ دیتے ہوئے آئینی اہتماموں اور اس کے ساتھ طے قوانین کی بنیاد پر آخری نتیجہ پر پہنچنا چاہئے۔ ‘انہوں نے کہاکہ شک چاہے کتنا بھی گہرا ہو، ثبوت کی جگہ نہیں لے سکتا۔‘غور طلب ہے کہ عدالت نے 20 مارچ کوسوامی اسیمانند، کمل چوہان، راجیندر چودھری اور لوکیش شرما کو بری کر دیا تھا۔ اس دھماکے میں 43 پاکستانی شہری، 10 ہندوستانیوں اور 15 نامعلوم لوگوں سمیت 68 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔یہ بلاسٹ 2007 میں19۔18 فروری کی رات کو اٹاری جانے والی سمجھوتہ ایکسپریس میں ہوا تھا۔
ہریانہ میں دوانہ اور پانی پت کے درمیان دو کوچ میں دو دھماکے ہوئے تھے۔ دو بم پھٹے ہی نہیں، جن کو بعد میں بر آمد کیا گیا۔انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، تین ملزمین امت چوہان (رمیش وینکٹ ملہاکر)، رام چندر کاس سنگرا اور سندیپ ڈانگے کو مجرم بنایا گیا۔ این آئی اے نے ایک دیگر ملزم سنیل جوشی کو اس حملے کا ماسٹرمائنڈ بتایا، جس کی مدھیہ پردیش کے دیواس میں دسمبر 2007 میں موت ہو گئی تھی۔جج نے اپنے حکم میں کہاکہ استغاثہ کے ثبوتوں میں تسلسل نہیں ہے اور دہشت گردی کا یہ معاملہ سلجھے بغیر ہی رہ گیا ۔